بدھ 29 ذو القعدہ 1443 - 29 جون 2022
اردو

مسجد میں نمازیوں کے سامنے اسکرین لگانے کا حکم

140711

تاریخ اشاعت : 05-07-2016

مشاہدات : 3845

سوال

سوال: یہاں نوٹنگھم میں ایک مسجد ہے جہاں پہلی منزل پر ڈیجیٹل اسکرین لگائی گئی ہے تا کہ گراؤنڈ فلور پر موجود امام کو پہلی منزل والے لوگ دیکھ سکیں، پہلی منزل کھلا ہال ہے اور قبلے کی جانب اسکرین لگائی گئی ہے تاکہ لوگ امام کو دیکھ سکیں۔
ہم نے انہیں کہا کہ اگر ایسا کرنا درست ہوتا تو ہمیں حرم مکی میں اسکرین لگانی چاہیے تھی، لیکن اللہ تعالی نے ان جگہوں کو ایسی حرکتوں سے پاک رکھا ہے۔
تو کیا تمام مساجد کی پہلی منزل پر ٹی وی اسکرین لگانا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

مسجد کے قبلے کی سمت میں ایسی ڈیجیٹل اسکرین لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ مقتدی ان اسکرینوں کی وجہ سے امام کو ضرورت پڑنے پر دیکھ سکتے ہیں، ایسی اسکرین جائے نماز برائے خواتین ، اور مسجد کے اوپر یا نیچے والی منزلوں میں لگائی جا سکتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ٹی وی اسکرین نہ ہو بلکہ امام کی نقل و حرکت منتقل کرنے کیلیے مختص اسکرین ہو۔

اس طرح سے امام کی حرکات و سکنات دیکھ کر امام کی اقتدا مزید اچھے انداز میں ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں امام کی حالت نامعلوم ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والا خلل بھی  ختم ہو جائے گا، خصوصی طور پر ایسے حالات میں جب امام بھول جائے یا سجدہ تلاوت یا سجدہ سہو کرے۔

تاہم نمازی کو چاہیے کہ اپنے سجدے کی جگہ پر ہی نظر رکھیں اور اسکرین کی طرف ضرورت پڑنے پر ہی دیکھیں ۔

اگر ایسی اسکرین حرمین شریفین میں نہیں لگائی گئیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ  اس طرح کی اسکرین لگانا منع ہے؛ کیونکہ ہر مسجد کی صورت حال الگ ہوتی ہے۔

اور اگر یہ اسکرین کو شرعی اور مفید معلومات منتقل کرنے کیلیے ہو تو پھر قبلے کی جانب لگانا درست نہیں ہے بلکہ اسے مخالف سمت میں لگائیں تا کہ نمازیوں کی نماز میں خلل کا باعث نہ ہو۔

اور اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران اس اسکرین کو چلایا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ براہِ راست خطیب پر نظر رکھنا یا اسکرین کے ذریعے خطیب کو دیکھتے ہوئے گفتگو سننا  دلچسپی اور غور سے سننے کیلیے معاون ثابت ہوگا، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ دوران خطبہ خطیب کی جانب دیکھنا مسنون ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب