ہفتہ 15 محرم 1444 - 13 اگست 2022
اردو

خاوند اور بيوى كے پاس بيٹھ كر باتيں كرتى تھى وہ اپنى بيوى كو طلاق دے كر اس سے شادى كرنا چاہتا ہے

125826

تاریخ اشاعت : 26-01-2011

مشاہدات : 6119

سوال

مجھے يہ مشكل درپيش ہے كہ ميرى بہن كى سہيلى كے خاوند سے شادى ہونے والى ہے، ميں اس كے گھر جاتى اور ہم سب آپس ميں بيٹھ كر باتيں كيا كرتے، جب ميرى بہن اسے نصيحت كرتى كہ يہ حرام ہے يعنى مرد و عورت كا اختلاط حرام ہے تو وہ اس سے مذاق كرتى اور كہتى كے تم لوگ تو پيچھے زمانے ميں جا رہے ہو، معاملہ يہاں تك پہنچ گيا كہ اس كے خاوند نے ميرا رشتہ طلب كر ليا.
اس كا كہنا ہے كہ ميں اسے پہلى نظر ميں ہى پسند آ گئى تھى، وہ اولاد چاہتا ہے كيونكہ اسكى بيوى اولاد پيدا نہيں كر سكتى، جب اس كى بيوى نے يہ بات سنى تو وہ مجھے كہتى ہے كہ ميں نے اس كے ساتھ خيانت كي ہے، كيا ميں اس كى بيوى بننا قبول كر لوں يا قبول نہ كروں ؟
ان ميں اختلافات پيدا ہو چكے ہيں اس ليے وہ اپنى بيوى كو طلاق دينا چاہتا ہے، يہ علم ميں رہے كہ وہ بنك ميں ملازم ہے اور اپنى ملازمت بھى تبديل كرنا چاہتا ہے كيونكہ اسے علم ہے كہ يہ ملازمت حرام ہے، اور وہ پكا نمازى بھى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

مرد و عورت كے مابين اختلاط حرام ہے؛ اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 1200 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

آپ پر واجب ہے كہ آپ نے جو كچھ كيا ہے اس پر اللہ سبحانہ و تعالى سے توبہ و استفغار كريں، اور يہ عزم كريں كے آئندہ ايسا نہيں كرينگى.

دوم:

عورت كے ليے اپنى دوسرى مسلمان بہن كى طلاق كے ليے كوشش كرنا حرام ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى كا فرمان ہے:

" اور نہ ہى كوئى عورت اپنى مسلمان بہن كى طلاق كا مطالبہ كرے تا كہ وہ اس كے برتن كو الٹا كر اس ميں جو كچھ ہے بہا دے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2140 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1413 ).

اس ليے خاوند كو طلاق دينے پر ابھارنا جائز نہيں، اور نہ ہى اسے دھوكہ ميں ڈالے جائے كہ وہ اپنى بيوى كو طلاق دے دے.

سوم:

اور اگر خاوند كى جانب سے شادى كى رغبت ہو اور آپ نے اس كى بيوى كى عليحدگى ميں كوئى كوشش نہيں كى تو آپ كے ليے يہ رشتہ قبول كرنا جائز ہے، ليكن ہم آپ كو درج ذيل امور كى نصيحت كرتے ہيں:

اول:

اس خاوند كے بارہ ميں يہ نہيں كہا جا سكتا كہ وہ آپ كے علاوہ كسى اور كو بھى پسند نہيں كريگا، اور آپ كے ساتھ شادى كر كے كسى دوسرى عورت كو اختيار نہيں كريگا، جيسا كہ اس نے اپنى بيوى كے ساتھ كيا ہے.

دوم:

آپ كا اس سے شادى كرنے كو قبول كرنے ميں اس كى بيوى كے دل ميں آپ كے ليے بغض و عداوت اور دشمنى پيدا كرنے كا باعث بنےگا، اس ليے آپ اس كے شر و ا ذيت سے بچ نہيں سكيں گى.

سوم:

آپ نے بيان كيا ہے كہ وہ بنك ملازم ہے، ہو سكتا ہے وہ ملازمت چھوڑ دے جيسا كہ اس گمان و خيال ہے، ليكن يہ بھى ہو سكتا ہے كہ وہ يہ ملازمت نہ چھوڑے.

ہمارى رائے تو يہى ہے، اور اگر سوچ و بچار كے بعد آپ اس سے شادى كرنا قبول كرتى ہيں تو آپ اللہ سے استخارہ كريں اور انتظار كريں كہ وہ كوئى اور ملازمت اختيار كر لے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو خير و بھلائى اور كاميابى و راہنمائى نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب