بدھ 18 محرم 1446 - 24 جولائی 2024
اردو

ویب ڈیزائنر کے طور پر کام کرنے کا حکم

سوال

میں ویب سائٹ ڈیزائننگ کے شعبے میں کام کرتا ہوں، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ میں جو ویب سائٹس ڈیزائن کروں ان میں خواتین کی تصاویر، یا اسلامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے والی تصاویر وغیرہ شامل نہ ہوں، اور میں اپنے ڈیزائن میں موسیقی یا گانے شامل نہیں کرتا ۔ میں صرف ویب سائٹ کی ظاہری شکل کو ڈیزائن کرتا ہوں۔ کیا اس بارے میں مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ اور کیا میری کمائی ہوئی رقم حلال ہے یا حرام؟ اور اگر اس کے بعد میرا یہی کلائنٹ اپنی اسی سائٹ پر حرام چیزیں، جیسے گانے، تصویریں، وغیرہ ڈالتا ہے تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ اگر میں ڈیزائن میں بچوں کی تصویریں شامل کروں تو کیا یہ بھی غلط ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو آج کل بڑے پیمانے پر تشویش کا باعث ہے، یہ گناہوں کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔ جس کی وجہ سے حرام چیزیں اور حرام کاموں کے ذرائع بہت زیادہ متنوع ہو چکے ہیں، کوئی ایسا میدان نہیں ہے جس میں شیطان برائی پھیلانے کی کوشش نہیں کرتا، اس حد تک کہ مسلمان اس بات میں بہت الجھے ہوئے ہیں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام، اور ان کے لیے اپنی کمائی کو پاک کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ مسلمان کن کن حرام عناصر سے اجتناب کریں!؟

اللہ تعالی اپنے متقی لوگوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے مومن بندوں کے لیے کافی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ لوگ کس قدر اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی تڑپ رکھتے ہیں اور کس قدر اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچتے ہیں، اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ضرور مغفرت، معافی، رضا اور احسان سے نوازے گا۔

اسلامی شریعت کی رو سے جائز خرید و فروخت اور اجارہ کے اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ: مبیع یا سروس ایسی نہیں ہونی چاہیے جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی ہو، اس لیے کسی شخص کو نافرمانی کے کاموں میں معاون نہیں بننا چاہیے! کسی حرام کام میں ملوث ہونے کا باعث نہ بنے؛ کیونکہ شریعت جس وقت کسی چیز کو حرام قرار دے دے تو اس حرام چیز کے ذرائع اور وسائل کو بھی حرام قرار دیتی ہے، شریعت نے ہر ایسے راستے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے جو حرام کام تک پہنچا دے۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون مت کرو، تقوی الہی اپناؤ، یقیناً اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[المائدہ: 2]

الشیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمہ قسم کی نافرمانی ظلم ہے، اور انسان پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو ظلم سے روکے، پھر ظلم ترک کرنے کے لیے دوسروں کی بھی مدد کرے۔" ختم شد
"تفسیر سعدی" ( ص 218 )

اسی طرح "الموسوعة الفقهية" ( 3 / 140 ) میں ہے کہ:
"جمہور فقہائے کرام کے ہاں یہ جائز نہیں ہے کہ انگور کسی ایسے شخص کو فروخت کیے جائیں جو اسے شراب بنانے کے لیے استعمال کرے، یا جواری کو جوا کھیلنے کے ذرائع فراہم کرے، گرجا گھر بنانے کے لیے اپنا مکان فروخت کرے، صلیب بنانے کے لیے لکڑی فراہم کرے، گھنٹال بنانے کے لیے تانبا فروخت کرے۔ اسی طرح کوئی بھی چیز جس کے بارے میں دکاندار کو پتہ چل جائے کہ اسے خرید کر غیر شرعی کام کرے گا تو اسے وہ چیز فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔" ختم شد

چنانچہ جب دکاندار یا ڈیزائنر یا کوئی بھی مصنوعات بنانے والے کو یقین ہو جائے کہ اس کی فروخت کردہ چیز حرام کام میں استعمال کی جائے گی، تو اس کے لیے وہ چیز فروخت کرنا، یا بنانا کر تیار کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی حکم تب بھی ہو گا جب یقین تو نہ ہو لیکن غالب گمان ہو۔

لیکن جب شک ہو ، یا اسے علم ہی نہ ہو کہ اس کی فروخت کردہ یا فراہم کردہ چیز کا استعمال کیا ہو گا تو پھر اسے فروخت کرنے اور ڈیزائن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کا گناہ صرف اسی پر ہو گا جو اس چیز کو حرام میں استعمال کرے گا۔

ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کسی ایسے شخص کو کوئی ایسی چیز فروخت کرنا حرام ہے جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی میں استعمال کرے گا۔ ایسی بیع سرے سے کالعدم اور فسخ ہو گی: مثلاً: کوئی بھی ایسی چیز جس سے شراب بن سکتی ہے وہ کسی ایسے شخص کو فروخت کرنا جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اس سے شراب بنائے گا، کسی کو غلام فروخت کرنا جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اس سے بد سلوکی کرے گا، کسی کو اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ فروخت کرنا جو یقینی طور پر انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرے، یا اس کی مثال یہ لیں کہ: خود ریشم پہننے والے مرد کو ریشم فروخت کرنا۔ تو اسی طرح ہر کام میں یہی اصول کار فرما ہو گا؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون مت کرو، تقوی الہی اپناؤ، یقیناً اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[المائدہ: 2]

تو جس خرید و فروخت کو ہم نے بطور مثال ذکر کیا ہے یہ براہ راست اور واضح گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون ہے، اور اس بیع کو فسخ کرنا نیکی اور تقوی کے لیے باہمی تعاون ہے۔
لیکن اگر یقین نہ ہو تو پھر بیع ٹھیک ہے؛ کیونکہ اس نے گناہ کے لیے تعاون نہیں کیا، چنانچہ اگر خریدار اسے خود غلط کام میں استعمال کرے تو اس کا گناہ صرف خریدار پر ہو گا، فروخت کنندہ پر نہیں ہو گا۔" ختم شد
"المحلى" ( 7 / 522 )

تو یہی حکم محترم بھائی آپ کے لیے بھی ہے:

لہذا اگر کوئی آپ کے پاس آ کر ویب سائٹ ڈیزائن کرنے کا کہتا ہے اور وہ سودی بینکوں، یا حیا باختہ مواد، یا شراب و خنزیر کی فروختگی یا فلموں اور گانوں جیسی حرام سرگرمی میں اسے استعمال کرے گا تو آپ کے لیے اسے ویب سائٹ ڈیزائن کر کے دینا جائز نہیں ہے، لہذا آپ اس کی کسی گناہ کے سلسلے میں مدد نہیں کر سکتے، بلکہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ اسے نصیحت کریں، اس کی رہنمائی کریں اور اللہ کا خوف اس کے ذہن میں ڈالیں۔

اور اگر آپ ویب سائٹ ڈیزائن کروانے کا سبب نہیں جانتے، یا ویب سائٹ کا زیادہ تر استعمال مفید اور جائز چیزوں میں ہو گا، تو پھر آپ اسے ڈیزائن کر کے فروخت کر سکتے ہیں چاہے ویب سائٹ کا مالک اس میں کچھ حرام چیزیں بھی شامل کر دے؛ کیونکہ شرعی احکامات کی بنیاد اکثریت پر ہوتی ہے قلیل یا معمولی نوعیت کی چیزوں کی بنیاد پر شرعی احکامات مرتب نہیں ہوتے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: ( 22756 ) ، ( 95029 ) اور (98062 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

آپ کی ڈیزائن کردہ ویب سائٹ پر بچوں کی تصاویر شامل کرنے کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل بھی جائز نہیں ہے، ہم نے پہلے تصویر کی حرمت واضح کر دی ہے، چاہے تصویر ہاتھ سے بنی ہوئی ہو یا کسی آلے سے کھینچی گئی ہو، اس حرمت سے وہی تصاویر مستثنی ہوں گی جو ضرورت کی بنا پر بنائی جائیں، مثلاً: پاسپورٹ وغیرہ کی لیے بنوائی جانے والی تصاویر۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (20325 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب