اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

احتلام كے بعد غسل نہ كر سكا اور وضوء كر كے نماز ادا كر لى

02-11-2007

سوال 96919

ميں ايك معذور نوجوان ہوں اور الحمد للہ ويل چئر پر چلتا پھرتا ہوں، ايك رات مجھے نماز فجر سے قبل احتلام ہوا تو جسمانى كمزورى كى بنا پر ميں غسل نہيں كر سكتا تھا، اور نہ ہى طلوع شمس سے قبل اپنا لباس تبديل كر سكتا تھا، اور ميں نماز فجر بھى ضائع نہيں كرنا چاہتا تھا، چنانچہ ميں نے وضوء كر كے نماز ادا كر لى، كيا يہ عمل جائز تھا يا نہيں، اور اگر جائز نہ تھا تو مجھے كيا كرنا ہو گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو دنيا و آخرت ميں عافيت سے نوازے.

جو شخص احتلام يا جماع كى بنا پر جنبى ہو جائے اس كے ليے غسل كرنا فرض ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے اٹھو تو اپنے منہ كو اور اپنے ہاتھوں كو كہنيوں سميت دھو لو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور اپنے پاؤں كو ٹخنوں سميت دھو لو، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو غسل كر لو، ہاں اگر تم بيمار ہو يا سفر كى حالت ميں ہو، يا تم ميں سے كوئى حاجت ضرورى سے فارغ ہو كر آيا ہو، يا تم عورتوں سے ملے ہو، اور تمہيں پانى نہ ملے تو تم پاك مٹى سے تيمم كر لو، اسے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مل لو، اللہ تعالى تم پر كسى قسم كى كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، بلكہ ا س كا ارادہ تمہيں پاك كرنے، اور تمہيں اپنى بھر پور نعمت دينے كا ہے، تا كہ تم شكر ادا كرتے رہو المآئدۃ ( 6 ).

چنانچہ اگر پانى نہ ہونے، يا پانى استعمال كرنے كى استطاعت نہ ہونے كى پنا پر غسل نہ كر سكتا ہو، تو وہ تيمم كر كے نماز ادا كر لے؛ جيسا كہ اوپر كى آيت ميں يہ فرمان بارى تعالى موجود ہے:

ہاں اگر تم بيمار ہو يا سفر كى حالت ميں ہو، يا تم ميں سے كوئى حاجت ضرورى سے فارغ ہو كر آيا ہو، يا تم عورتوں سے ملے ہو، اور تمہيں پانى نہ ملے تو تم پاك مٹى سے تيمم كر لو، اسے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مل لو، اللہ تعالى تم پر كسى قسم كى كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، بلكہ ا س كا ارادہ تمہيں پاك كرنے، اور تمہيں اپنى بھر پور نعمت دينے كا ہے، تا كہ تم شكر ادا كرتے رہو المآئدۃ ( 6 ).

اور اسى طرح جسے احتلام ہو جائے اور اسے ٹھنڈا پانى استعمال كرنے سے بيمار ہونے كا خدشہ ہو، اور اسے پانى گرم كرنے كے ليے كچھ نہ ملے، يا پھر پانى دور ہو وہاں تك پہنچنا مشكل ہو، اور اسے پانى لا كر دينے والا كوئى نہ ہو، تو وہ شخص بھى تيمم كر كے نماز ادا كر لے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى "المغنى " ميں لكھتے ہيں:

" اور جو شخص مريض ہو اور حركت كرنے كى استطاعت نہ ركھتا ہو، اور نہ ہى اسے پانى لا كر دينے والا كوئى شخص ہو، تو وہ پانى نہ پانے والے كى طرح ہى ہے، كيونكہ اس كے ليے پانى تك پہنچنے كا كوئى ذريعہ نہيں..... اور اگر نماز كا وقت نكلنے سے قبل كوئى شخص اسے پانى لا كر دينے والا ہو، تو وہ پانى كو پانے والے كى طرح ہى ہے " انتہى.

ديكھيں: المغنى ( 1 / 151 ).

اور جس مريض كے ليے سارا جسم دھونا تو ممكن نہ ہو، ليكن جسم كا كچھ حصہ دھو سكتا ہو، تو اس كے ليے حسب استطاعت جسم كا حصہ دھونا فرض ہے، اور باقى كى جانب سے تيمم كر لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

تو تم اپنى استطاعت كے مطابق اللہ كا تقوى اختيار كرو التغابن ( 16 ).

ليكن غسل كے بدلے ميں وضوء كفائت نہيں كريگا.

آپ مزيد فائدہ كے ليے سوال نمبر ( 71202 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر آپ يہ نماز لوٹانى چاہيے.

دوم:

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق منى طاہر ہے، اس ليے آپ كے ليے نہ تو لباس تبديل كرنا اور نہ ہى دھونا لازم ہے، اس كى تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 2458 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

غسل
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔