اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

نماز تراويح ميں قرآت كرنا

11-10-2006

سوال 66504

ہمارا امام ہر روز نماز تراويح ميں مختلف جگہ سے قرآن مجيد كى قرآت كرتا ہے، لہذا نماز تراويح ميں مختلف سورتوں اور جگہوں سے قرآن پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

نماز تراويح ميں قرآت كے سلسلہ ميں افضل اور بہتر تو يہ ہے كہ ايك بار قرآن مجيد ختم كيا جائے، اس كے ليے بخارى شريف كى اس حديث سے استدلال كيا جا سكتا ہے جس ميں ہے كہ رمضان المبارك ميں جبريل امين عليہ السلام نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ قرآن مجيد كا دور كيا كرتے تھے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس سے يہ سمجھنا ممكن ہے كہ امام كا رمضان المبارك ميں نماز تروايح ميں قرآن مجيد پڑھ كر ختم كرنا قرآن مجيد كا دور كرنا ہے، كيونكہ اس ميں مقتديوں كے ليے مكمل قرآن سننے كا فائدہ ہے، اسى ليے امام احمد رحمہ اللہ تعالى اس امام كو پسند كرتے جو قرآن مجيد ختم كرتا. اور مكمل قرآن مجيد سننے كى محبت ميں يہ عمل بالكل سلف كے عمل جيسا ہے، ليكن يہ واجب نہيں، كيونكہ اس ميں جلدى ہے اور قرآت ميں ٹھراؤ نہيں، اور نہ ہى خشوع اور اطمينان كى كوشش كى جاتى ہے، بلكہ قرآن مجيد ختم كرنے كے خيال سے اولى اور بہتر يہ ہے كہ خشوع اور اطمينان كو مد نظر ركھا جائے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 11 / 331 - 333 ).

اور " الموسوعۃ الفقھيۃ" ميں ہے:

" حنابلہ اور احناف كے اكثر مشائخ اور امام حسن نے امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ سے يہى بيان كيا ہے كہ نماز تراويح ميں قرآن مجيد ختم كرنا سنت ہے تا كہ لوگ اس نماز ميں مكمل قرآن سن سكيں.

حنفيہ كہتے ہيں كہ ايك بار ختم كرنا سنت ہے، لہذا امام مقتديوں كى سستى اور كاہلى كى بنا پر قرآن پورا پڑھنا ترك نہ كرے، بلكہ وہ ہرركعت ميں دس آيات كى تلاوت كرے تو اس طرح وہ ختم كر سكتا ہے ( يہ اس وقت ہے جب وہ بيس ركعت ادا كرے گا ليكن سنت گيارہ ركعات ہيں )

اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: ہر ركعت ميں تيس آيات تلاوت كرے كيونكہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے يہى حكم ديا تھا، تو اس طرح قرآن مجيد رمضان ميں تين بار ختم ہو سكتا ہے... ...

كاسانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے جو حكم ديا تھا وہ فضيلت كے اعتبار سے ہے يہ كہ ايك بار سے زيادہ بار قرآن مجيد ختم كرنا، يہ تو ان كے دور ميں تھا، ليكن ہمارے دور ميں افضل يہ ہے كہ امام لوگوں كے حال كے مطابق قرآت كرے لہذا اسے اتنى قرآت كرنى چاہيے جس سے وہ جماعت سے متنفر نہ ہوں، كيونكہ جماعت كا زيادہ ہونا نماز لمبى ہونے سے افضل ہے" انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 27 / 148 ).

كاسانى رحمہ اللہ تعالى نے جو كہا ہے وہ اچھا ہے، لہذا امام كو مقتديوں كا خيال ركھنا چاہيے.

لہذا امام ايسا نہ ہو كہ وہ لوگوں كو نماز لمبى كر كے منتفر كرے حتى كہ نماز ان كے ليے مشقت بن جائے، اور اس كا يہ گمان ہو كہ اگر وہ ايسا نہيں كرتا تو وہ غلط ہے! بلكہ صحيح يہ ہے كہ وہ لوگوں كو نماز كى ترغيب دلائے اور اس پر ابھارے چاہے اسے نماز ميں تخفيف ہى كرنى پڑے، ليكن اس ميں ايك شرط ہے كہ وہ نماز مكمل كرے، كيونكہ لوگوں كو مكمل اور تخفيف شدہ نماز پڑھانى ترك نماز سے بہتر ہے.

ابو داود رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالى سے ايسے شخص كے متلق دريافت كيا گيا جو لوگوں كى امامت كرواتے ہوئے رمضان المبارك ميں دو بار قرآن مجيد ختم كرتا ہے؟

تو انہوں نے كہا: ميرے نزديك يہ لوگوں كى نشاط اور چستى كے مطابق ہونا چاہيے، اور ان ميں مزدور بھى ہيں.

ابن رجب حنبلى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" امام احمد رحمہ اللہ تعالى كى كلام اس پر دلالت كرتى ہے كہ امام كو قرآت ميں مقتديوں كى حالت كيا خيال ركھنا ہو گا، وہ ان پر مشقت نہ كرے ان كے علاوہ احناف وغيرہ فقھاء نے بھى يہى كہا ہے.

ديكھيں: لطائف المعارف ( 18 )

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

بعض آئمہ كرام ہر رات ہر ركعت كے ليے قرآن مجيد كى ايك مقدار متعين كر ليتے ہيں، اس ميں آپ كى رائے كيا ہے؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

ميں اس ميں كچھ نہيں جانتا؛ كيونكہ يہ امام كے اجتھاد پر منحصر ہے اگر امام ديكھے كہ كچھ راتوں يا بعض ركعات ميں قرآت لمبى كرنے ميں مصلحت ديكھے كہ وہ نشيط اور چست ہے، اور وہ اپنے اندر اس كى قوت و استطاعت ديكھے، اور قرآت سے كچھ لوگ لذت حاصل كرتے ہيں تو كچھ آيات زيادہ كر لے تا كہ وہ خود بھى نفع حاصل كرے اور مقتدى بھى فائدہ اٹھائيں، كيونكہ جب وہ اچھى آواز اور خوشى كے ساتھ اور خشوع و خضوع كے ساتھ تلاوت كرے گا تو اسے بھى فائدہ ہے، اور اس كے مقتديوں كو بھى.

تو اس طرح اگر وہ كچھ راتوں اور ركعات ميں لمبى قرآت كرے تو اس ميں ہمارے نزديك كوئى حرج نہيں، الحمد اللہ اس ميں وسعت ہے.

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد العزيز بن باز ( 11 / 335 - 336 ).

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى سے يہ بھى ديارفت كيا گيا:

كيا نماز تراويح ميں امام كو كمزور اور بڑى عمر كے لوگوں كا بھى خيال ركھنا چاہيے؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

ايسا كرنا تو سب نمازوں ميں مطلوب ہے، چاہے وہ نماز تراويح ہو يا فرضى نماز؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى نماز كى امامت كروائے تو وہ نماز كو ہلكا كر كے پڑھائے كيونكہ ان ميں كمزور بھى ہيں، اور بچہ بھى اور ضرورتمند بھى "

لہذا امام كو مقتديوں كا خيال ركھنا چاہيے، اور قيام رمضان كے سلسلے ميں وہ ان پر نرم رويہ اختيار كرے اور خاص كر اسے آخرى عشرہ ميں اور بھى نرمى اختيار كرنى چاہيے، اس ليے كہ سب لوگ برابر نہيں بلكہ مختلف ہيں لہذا اسے ان كے حالات كا خيال كرتے ہوئے انہيں باجماعت نماز ادا كرنے پر ابھارنا اور مسجد ميں حاضر ہونے كى ترغيب دلانى چاہيے، كيونكہ جب وہ نماز لمبى كرے گا تو اس نے لوگوں كو مشقت ميں ڈالا اور انہيں وہاں آنے سے منتفر كيا ہے.

لہذا اسے ايسے كام كا خيال كرنا ہو گا جو انہيں وہاں آنے اور نماز كى ادائيگى ميں رغبت دلائے، چاہے وہ نماز ميں اختصار كرے، اور اسے لمبا نہ كرے كيونكہ وہ نماز جس ميں لوگ خشوع و خضوع اور اطمينان حاصل كريں چاہے وہ كم لمبى ہى ہو اس نماز سے بہتر ہے جس ميں خشوع و خضوع نہ ہو اور وہ اس سے اكتا جائيں اور سست ہو جائيں.

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد العزيز بن باز ( 11 / 336 - 337 ).

سوم:

سوال نمبر ( 20043 ) كے جواب ميں يہ بيان ہو چكا ہے كہ نماز ميں سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنا جائز ہے، ليكن افضل يہ ہے كہ پورى سورۃ پڑھى جائے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا غالبا يہى فعل رہا ہے.

اور بعض علماء كرام ـ مثلا ابن صلاح رحمہ اللہ ـ نے نماز تروايح كو استثناء كرتے ہوئے كہا ہے كہ:

اس ميں سورۃ كا كچھ حصہ پڑھنا افضل ہے تا كہ اس كے ليے قرآن مجيد ختم كرنے ميں آسانى ہو سكے.

اور تحفۃ المحتاج ميں ہے:

اس سے يہ اخذ كيا جا سكتا ہے كہ كچھ حصہ افضل اس وقت ہے جب وہ تراويح ميں پورا قرآن ختم كرنا چاہے، اور اگر يہ ارادہ نہ ہو تو پھر سورۃ افضل ہے. انتہى

ديكھيں: تحفۃ المحتاج شرح المنھاج ( 2 / 52 ).

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں ہے:

امام مالك رحمہ اللہ تعالى سے ايك روايت ميں ہے كہ انہوں نے سورۃ كے كچھ پر اقتصار كرنا ناپسند كيا ہے....

اور شافعيہ اور حنابلہ كا مسلك يہ ہے كہ سورۃ كا كچھ حصہ قرآت كرنا ناپسند نہيں اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

تمہارے ليے جو آسان ہو قرآن ميں سے وہ پڑھو.

اور اس ليے كہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فجر كى پہلى ركعت ميں قُولُوا آمَنَّا بِاَللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إلَيْنَا اور دوسرى ركعت ميں قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ پڑھتے تھے.

ليكن شافعيہ نے بيان كيا ہے كہ پورى سورۃ كى قرآت كرنى لمبى سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنے سے افضل ہے.... اور يہ تروايح كے علاوہ ہے، ليكن تروايح ميں لمبى سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنا افضل ہے، اور اس كى علت يہ بيان كى ہے كہ تروايح ميں پورے قرآن كا قيام كرنا سنت ہے. انتہى باختصار

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 33 / 49 ).

خلاصہ يہ ہوا كہ:

آپ كا امام نماز تروايح ميں جب قرآن مجيد پورا ختم نہيں كرتا تو اس كا قرآن مجيد كى مختلف جگہوں سے قرآت كرنا جائز ہے، اور اس ميں كوئى كراہت نہيں، اگرچہ بہتر اور اكمل يہ ہے كہ وہ پورى سورۃ قرآت كرے.

واللہ اعلم .

تراویح کی نماز اور لیلۃ القدر
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔