اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

ہنر مند افراد کا رابطہ صارفین سے کرواتا ہے، اور ہر ڈیل پر تناسب کے ساتھ ہنر مند سے ماہانہ ممبر شپ فیس وصول کرتا ہے

15-08-2022

سوال 375847

ایسی فری لانس ویب سائٹس موجود ہیں جو ہنر مند افراد کو کسی بھی معینہ کام کے ماہر کی تلاش میں مدد فراہم کرتی ہیں مثلاً: کسی مضمون کا ترجمہ کرنا، یا ماہر مترجم  وغیرہ۔ یہ ویب سائٹس ہنر مند فرد کی طرف سے جو بھی کام کیا جاتا ہے اس میں سے مخصوص تناسب  خود وصول کرتی ہیں، تو ایسی ویب سائٹ کے ساتھ کام کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ ان میں سے بعض ویب سائٹ ہنر مند افراد سے رکنیت کی ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ ہر کام کی اجرت میں سے مخصوص تناسب بھی  وصول کرتی ہیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

ہنر مند افراد اور خدمات طلب کرنے والوں کے درمیان معاوضہ لے کر دلالی کرنے کا حکم

ہنر مند افراد اور خدمات طلب کرنے والوں کے درمیان معاوضہ لے کر دلالی کرنا جائز ہے کہ جس  جس کام کے لیے دلالی کا کام کیا ہے اس میں سے مخصوص مقدار میں معاوضہ لیا جائے، یہ جائز دلالی کی صورت ہے اس میں یہ شرط ہے کہ جس کام کے لیے دلالی کی جائے وہ کام بذات خود جائز ہو۔

تاہم ایسا کام جس میں ویب سائٹ کی جانب سے کسی قسم کی رہنمائی یا  معاونت وغیرہ نہیں کی گئی تو ایسی صورت میں  ہنر مند فرد سے معاوضہ لینے کے جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

مثلاً: پہلا کام کرنے کے بعد اگر ہنر مند فرد اور گاہک کے درمیان تعلق بن گیا ، اور گاہک نے ہنر مند شخص سے ویب سائٹ سے ہٹ کر ذاتی رابطے کے ذریعے مزید کام بھی کروائے تو ویب سائٹ کو صرف پہلے کام کی وجہ سے ہی دلالی کا معاوضہ ملے گا، اس کے بعد والے کاموں کا معاوضہ نہیں ملے گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (278377 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔  

دلالی کے معاوضے کے لیے مخصوص رقم بھی جائز ہے، یا قیمت  یا اجرت کا مخصوص تناسب مقرر کرنا بھی جائز ہے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (13/131) میں ہے:
"دلال شخص کے لیے مال تجارت کی مقرر ہونے والی قیمت فروخت میں سے  مخصوص تناسب کے برابر  دلالی کا معاوضہ لینا جائز ہے،  یہ معاوضہ حسب معاہدہ خریدار سے یا فروخت کنندہ کسی  سے بھی وصول کر سکتا ہے، تاہم مقدار اتنی ہو کہ بہت زیادہ نہ ہو اور نہ ہی اس میں کسی کا نقصان ہو" ختم شد

دوم:

ہنر مند (Free lancer)سے ماہانہ ممبر شپ فیس اور  دلالی کا معاوضہ  دونوں وصول کرنے کا حکم

ہنر مند  افراد سے ماہانہ ممبر شپ فیس اور ہر کام کی الگ سے دلالی دونوں وصول کرنا  جائز نہیں ہے؛ کیونکہ دلالی کا معاوضہ تو یہی تناسب ہے، اس لیے ماہانہ ممبر شپ فیس باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپ کرنے کے زمرے میں شامل ہو گا۔

لیکن اگر ویب سائٹ کی جانب سے ہنر مند افراد کے لیے پورا مہینہ ایسی جگہ پیش کی جاتی ہے جہاں وہ اپنے مکمل کردہ منصوبوں کو پیش کر سکے [جیسے کہ بعض سائٹس میں اسے (Portfolio) کہا جاتا ہے ] تو یہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس صورت میں ماہانہ ممبر شپ اسی مخصوص جگہ کے عوض ہے، اور ہنر مند کے کام کو دیکھ کر  کسی کا گاہک بننا بھی دلالی میں ہی شامل ہوتا ہے۔

اور اگر گاہکوں کو ہنر مند تک لانے کے لیے اس مخصوص جگہ  کے علاوہ کوئی  اور بھی کام ہو تو  اس کام کی مقدار کے برابر دلال اجرت کا حق دار ہے ۔ لیکن اگر اس کا کوئی اور کام نہ ہو تو  محض  اس (Portfolio) کی وجہ سے دہری اجرت کا حقدار نہیں  ہو گا، یہاں دہری اجرت سے مراد ماہانہ ممبر شپ فیس اور  ہر کام کے عوض حاصل ہونے والا تناسب  ہے۔

تاہم کسی کو کوئی چیز کرائے پر دینا اور ساتھ ہی اس سے دلالی کرتے ہوئے دو چیزوں کو جمع کرنا جائز ہے، چاہے یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مشروط ہوں، کیونکہ راجح موقف یہی ہے کہ ایک تجارتی معاہدے میں دوسرے کی شرط لگانا جائز ہے، بشرطیکہ اس کی وجہ سے سودی  لین دین کا دروازہ نہ کھلے۔

یہ شافعی فقہائے کرام اور امام احمد کا ایک روایت کے مطابق موقف ہے جو کہ جمہور علمائے کرام  کے موقف سے مختلف ہے۔

مزید کے لیے آپ ابو عمر دبیان کی کتاب: "المعاملات المالية": (5/373)کا مطالعہ کریں۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا:
"صحیح موقف یہ ہے کہ جس وقت ایک تجارتی معاہدے میں  دوسرے تجارتی معاہدے کی شرط لگائی جائے  تو یہ شرط بھی صحیح ہے اور بیع بھی صحیح ہے، ما سوائے دو صورتوں میں:  جب قرض  کی شرط لگائی جائے جس سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو۔ تو یہ نفع کا باعث بننے والا قرض ہونے کی وجہ سے سود میں شامل ہوتا ہے جو کہ حلال نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ: یہ سود  کے لیے حیلہ ہو۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (8/239)

واللہ اعلم

اجرت جعالہ (انعام)
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔