33710



لڑکی ملازمت کرنا چاہتی ہے لیکن منگیتر نہیں مانتا
میری تین برس سے منگنی ہوچکی ہے ، ان تین برسوں میں میرے اورمنگیتر کے مابین اختلافات بڑھ چکے ہیں حالانکہ ان میں سے غالب توبہت ہی چھوٹی سے باتیں ہیں ، لیکن ایک مشکل جس پر ہمارا ہمیشہ آپس میں جھگڑا رہتا ہے وہ شادی کے بعد میری ملازمت ہے ۔
میرا خاوند اس پر مصر ہے کہ شادی کے بعدبغیر کسی ضرورت کے صرف ملازمت کی رغبت سے عورت کا ملازمت کرنا حرام ہے ؟

الحمد للہ
 .سوال کرنے والی بہن کو ہم ایک تنبیہ کرنا چاہیں گے کہ تین برس سے اس کی منگنی ہوچکی ہے ، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے منگیتر کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی اوربات چیت بھی کرتی ہے ، اورہوسکتا ہے وہ اس سے خلوت بھی کرتی ہو ۔

اوراس کا یہ بھی کہنا ہے کہ شادی کے بعد ملازمت کے بارہ میں اپنے منگیتر سے جھگڑا بھی ہوتا رہتا ہے ۔

آج کل لوگوں میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ جن کی منگنی ہوچکی ہوشادی سے قبل ہی وہ آپس میں بات چیت کرتے اوراکٹھے گھومنے کے لیے بھی نکل جاتے ہیں ، اس میں کوئي شک وشبہ نہیں کہ ایسا کرنا حرام ہے ، شادی کرنے والے مرد کومنگنی کےوقت اپنی منگیتر کوصرف دیکھنے کی اجازت ہے اس سے زیادہ کسی چيز کی اجازت نہیں ۔

اس کے ساتھ خلوت اورمصافحہ کرنا حرام ہے کیونکہ صرف منگنی کی حالت میں ابھی تک وہ لڑکی اس کے لیے اجنبی ہے ، لیکن شریعت نے صرف اس کے لیے لڑکی دیکھنا بھی اس لیے جائز کیا ہے تاکہ وہ منگنی کا عزم کرسکے ۔

اوربعض لوگ اس شادی کوجس میں عقد نکاح ہوچکا ہو اوررخصتی نہ ہوئي ہو پر بھی منگیتر ( یعنی عربی میں خاطب ) کا لفظ بولتے ہیں ، اگر تو نکاح ہوچکا ہو اورصرف رخصتی باقی ہو اگر توآپ کی بھی یہی حالت ہے توپھر آپ دونوں خاوند اوربیوی ہے اورآپ کے خاوند کوآپ سے مصافحہ اورخلوت اورآپ کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے ، لیکن اگر آپ دونوں کا عقد نکاح بھی نہیں ہوا صرف منگنی تک ہی محدود ہے توپھر آپ کی ملاقاتیں حرام ہی۔

دوم : بلاشبہ عورت کے لائق اوراس کی طبیعت کے مناسب کام تو یہی ہے کہ وہ اپنے گھر میں اسقرار اختیار کرے ، اورگھریلو ضروریات سے نبرد آزما ہو ، خاونداور جب اللہ تعالی اسے اولاد نوازے تواس کی ضروریات پوری کرے ان کا خیال رکھے ، یہ کام بہت عظیم ہے کوئي آسان اورمعمولی نہیں ۔

رہا مسئلہ گھرسے باہر نکل کر عورت کی ملازمت اورکام کرنے کا تواصل بات تو یہی ہے کہ یہ اس کی طبیعت کے مناسب نہیں اور نہ ہی اسے زيب دیتا ہے ، لیکن اگر اسے ایسا کرنے کی ضرورت پیش آجائے توپھر اسے ایسا کام کرنے کی اجازت ہے جو اس کی طبیعت کےمناست اورحال کے لائق ہو ، لیکن اس میں بھی شرط یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کا التزام کرنا ہوگا جس میں باپردہ رہنا ، آنکھوں کی حفاظت ، اورغیرمحرم مردوں سے اختلاط اورمیل جول نہ کرنا وغیرہ شامل ہے ۔

شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالی کہتےہيں :

یہ بات تو عام معلوم ہے کہ عورت کا ملازمت کرنے کے لیے مردوں کےمیدان میں نکلنا عورتوں سے اختلاط اورمیل جول ، اوران سے خلوت کا باعث بنے گا جو کہ حرام اورمذموم ہے ، اوریہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے جس کے نتائج بھی خطرناک ، اس کا پھل بھی بہت ہی کڑوا اورانجام بہت ہی برا ہوگا ۔

اورپھر یہی نہیں بلکہ یہ توشرعی نصوص کے بھی متصادم ہے جس میں عورت کو گھر میں ہی رہنے اوروہ گھریلو کام کاج کرنے کا حکم دیا گيا ہے جس پر اللہ تعالی نے اس کی فطرت بنائي ہے جس میں وہ مردوں کے میل جول اوراختلاط سے بھی دور اوربچی رہے گی ۔

اجنبی عورت سے خلوت اور اس کی طرف دیکھنے پر صریح اورصحیح دلائل ملتے ہیں اورپھر اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں تک پہنچنے کے وسائل کی تحریم پر بھی بہت ہی محکم اورپختہ دلائل موجود ہیں جس میں اخلاط بھی شامل ہے جوایسے کام کی طرف لےجاتا ہے جس کا انجام کوئی اچھا نہيں ۔

ان دلائل میں سے اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے :

{ اوراپنے گھروں میں قرار سے رہو اورقدیم جاہلیت کےزمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگار کا اظہار نہ کرو ، اورنماز ادا کرتی رہو اورزکاۃ ادا کرتی رہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کرتی رہو ، اللہ تعالی تویہی چاہتا کہ اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی گھروالیو ! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کودور کردے ، اورتمہيں خوب پاک کردے ۔

اورتمہارے گھروں میں جو آیتیں اوررسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جواحاديث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو ، یقینا اللہ تعالی مہربانی کرنے والا خبردار ہے } الاحزاب ( 33 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی بیویوں اورصاحبزادیوں سے اورمسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کرے گی پھر وہ ستائي نہ جائيں گی ، اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے } الاحزاب ( 59 ) ۔

اورایک مقام پر اللہ جل جلالہ کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ اورمومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے لیے زيادہ بہتر اورپاکی کا باعث ہے یقینا اللہ تعالی جوکچھ وہ کررہے ہیں جاننے والا ہے ، اورمسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اوراپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں ، اوراپنی زینت کوظاہر نہ کریں سوائے اس کےجوظاہر ہے ، اوراپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ، اوراپنی زیب وآرائش کوکسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے ۔۔۔ } النور ( 31 )۔

اوراسی طرح اوربھی بہت سی آیات اوراحادیث صریحا اس پر دلالت کرتی ہیں کہ عورتوں کا مردوں سے اختلاط اورمیل جول کرنے سے بچنا واجب ہے ، جو کہ فساد اورخاندانوں اورمعاشروں کے بگاڑ کا باعث بنے گا ۔

اور جب ہم بعض اسلامی ممالک میں عورت کی حالت کی دیکھتے ہیں توعورت کواس کے گھر سے نکل کر غیرطبعی کام کرنے کے با‏عث ذلیل اوررسوا پاتے ہیں اس لیے کہ اس نے اپنے اوپر مقرر کردہ کا چھوڑ کرایسا کام اختیار کیا جواس کے شایان شان اورلائق نہ تھا ۔

ان اسلامی ممالک اورباقی دوسرے یورپی ممالک میں بھی عقلمند اوردانشوروں نے یہ کہنا شروع کردیا اورمطالبہ کرنے لگے ہیں کہ عورت کو اس کی طبعی اورفطری حالت پر واپس لایا جائے جس پر اللہ تعالی نے اسے پیدا فرمایا اوراس کو جسمانی اورعقلی طور پرکو مرکب کیا ہے ، لیکن یہ سب کچھ بہت ہی وقت گزرنے کے بعد ہوا ہے ۔

عورتوں کے عملی میدان میں جو کہ تدریس اوراورگھریلوکام کاج اوراسی طرح وہ کام جوعورتوں کے متعلق ہیں انہيں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے مستغنی کردیتے ہیں ۔

دیکھیں کتاب : الشیخ ابن باز و مواقفہ الثابتۃ ، الرد نمبر ( 22 )

اورشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

عورت کے کام کی مجال یہاں تک محدود ہے جو عورتوں کے ساتھ ہی خاص ہوں مثلا لڑکیوں کی تعلیم وتدریس میں کام کرے چاہے وہ دفتری کام ہو یا پھر فنی ، اوریہ اپنے گھر میں عورتوں کے کپڑوں کی سلائی کڑھائي وغیرہ کا کام کرے ۔

لیکن یہ کہ وہ عورت کے ساتھ خاص کردہ کام میں جائے اوروہاں ملازمت کرے توایسا کرنا جا‏ئز نہیں کیونکہ اس سے مردوں سے میل جول اوراختلاط ہوگا جوکہ عظیم فتنہ اورفساد ہے جس سے بچنا ضروری ہے ، اس کا علم ہونا بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے :

( میرے بعد سب سےمردوں کونقصان دینے والا فتنہ عورتوں کا ہوگا ، اوربنی اسرائیل میں بھی عورتوں کا ہی فتنہ تھا ) ۔

تومرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کو فتنے والی جگہوں اوراس کے اسباب سے ہر حال میں دور اوربچا کر رکھے ۔

دیکھیں فتاوی المراۃ المسلمۃ ( 2 / 981 ) ۔

ہم سوال کرنے والی بہن سے گزارش کرتے ہيں کہ وہ مندرجہ ذیل نمبروں کے سوالات کے جوابات بھی دیکھے تا کہ اس کے علم وبصیرت میں اضافہ ہو ، ( 6666 ) اور( 1200 ) اور سوال نمبر ( 22397 ) ۔

واللہ اعلم


الاسلام سوال وجواب



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 146.39