الحمدللہ
مندرجہ بالا سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن صالح
عثيمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے رکھاگیا توان کا جواب تھا :
میری رائے میں تویہ تجسس یعنی جاسوسی ہے ، اورکسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ
کسی کی بھی جاسوسی اورعیب تلاش کرتا پھرے ، اس لیے کہ ہمارے لیے توظاہر کے علاوہ
کچھ نہیں ، اگرہم لوگوں کے عیب تلاش کرنا شروع کردیں اورتجسس کرنے لگیں تواس میں
ہمیں بہت ہی مشکلات اورتھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا ، اورہمارے ضمیر بھی جوکچھ ہم
سنیں اوردیکھیں گے اس کی وجہ سے پریشان ہوجائيں گے ۔
اورجب اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان :
{ اے ایمان والو ! بہت سی بدگمانیوں سے بچو یقین جانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں
اوربھید نہ ٹٹولا کرو } الحجرات ( 12 ) ۔
اس فرمان کے آخر میں فرمایا ہے کہ بھید نہ تلا ش کیا کرو توہمیں بھی ایسا ہی
کرنا چاہیے ۔
لیکن جب گھر کا ذمہ دار ایسی نشانیاں اورعلامتیں دیکھے جواس غلط اورگندے مکالمات
پر دلالت کررہی ہوں تو پھر چوری چھپے ٹیلی فون ٹیپ کرنے میں کوئي حرج نہیں ، لیکن
اسے چاہیے کہ جب اسے ایسی چيز کا علم ہوتووہ اسے ابتدا میں ہے روک دے اورانہیں ڈانٹے
اسے اس کا پیچھا اورانتظار نہیں کرنا چاہیے ۔
ہو سکتا ہے کہ اگروہ اس کا پیچھا اورانتظار کرے اسے ایسی اشیاء سننی پڑيں جواسے
پہلے سےبھی زيادہ ناپسند ہوں ، مثلا جب اسے کسی گندی اورفحش کلامی کا پتہ چلے تواسے
فوری طور پر کلام کرنے والے کوڈانٹنا چاہیے اوراسے کل تک کے لیے موخر نہ کرے ،
کیونکہ شروع سے ہی اس راستے کو منقطع کرنا چاہیے ۔
لیکن صرف تہمت اوروسوسے یہ جائز نہیں لیکن جب اسے یہ پتہ چلے کہ معاملہ خطرناک
ہے ، اوریہ کام ہوا ہے تواس میں کوئي حرج نہیں کہ اس معاملے کی تحقیق کے لیے ٹیلی
فون ٹیپ کرے ۔ .