الحمد للہ
نماز ارکان اسلام کا ایک رکن ہے جوکہ کلمہ شھادت کے بعد اہم رکن اوربذاتہ ایک فرض
ہے ، جو بھی اس کے وجوب کا انکار کرتا ہوئے اس کی ادائیگی نہيں کرتا یا پھر وہ نماز
پڑھنے میں سستی کرتا ہے وہ کافر ہے ۔
لیکن وہ لوگ جوصرف رمضان المبارک میں ہی نمازپڑھتے اورروزہ رکھتے ہیں وہ اللہ
تعالی کو دھوکہ دیتے ہیں ، اورایسے لوگ بہت ہی برے ہیں جواللہ تعالی کو صرف رمضان
المبارک میں جانتے ہیں ، نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ان کے روزے بھی صحیح نہیں بلکہ وہ
تو اس کی وجہ سے کفراکبر کے مرتکب ہوئے ہیں ، اگرچہ انہوں نے نماز کے وجوب کا انکار
نہیں کیا ، علماء کرام کا صحیح قول یہی ہے کہ وہ کافر ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے :
بریدہ اسلمی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا :
( ہمارے اوران کے مابین نماز کا معاھدہ ہے جس نے بھی نماز چھوڑی اس نے کفر کیا )
مسند احمد حدیث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2621 ) سنن نسائی حدیث نمبر (
431 ) سنن ابن ماجہ ( 1079 ) اس کی سند صحیح ہے ۔
اورایک دوسری حدیث میں ہے کہ :
معاذ بن جبل رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا :
( نماز اسلام کی چوٹی اوردین کا ستون ہے اور جھاد فی سبیل اللہ دین کی کوہان ہے
) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2616 ) اس کی سند صحیح ہے ۔
اورمسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری رضي اللہ تعالی عنہ بیان
کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( بندے اور کفروشرک کے مابین ( حد فاصل ) نماز کا ترک کرنا ہے ) صحیح مسلم حدیث
نمبر ( 82 ) ۔
اس موضوع میں اس کے علاوہ اوربھی بہت سی احادیث مروی ہيں ۔
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ .