106489



جديد آلات كے ساتھ چاند ديكھنے ميں كوئى حرج نہيں
كيا صرف آنكھ كے ساتھ چاند ديكھنا ضرورى ہے يا كہ اس كے ليے ہم جديد آلات دوربين وغيرہ استعمال كر سكتے ہيں ؟

الحمد للہ:

شرعى دلائل كے ظاہر سے تو يہى ملتا ہے كہ لوگوں كو ان آلات كے ساتھ ديكھنے كا مكلف نہ بنايا جائے، بلكہ صرف آنكھ كے ساتھ ہى چاند ديكھنا ہى كافى ہے.

ليكن جو شخص ان آلات كے ساتھ ديكھتا ہے اور يقين كر ليتا ہے كہ اس نے ان آلات كے ساتھ چاند غروب آفتاب كے بعد ديكھا ہے اور وہ شخص مسلمان اور عادل ہو تو ميرے علم كے مطابق اس كى رؤيت پر عمل كرنے ميں كوئى مانع نہيں.

كيونكہ يہ رؤيت آنكھ كے ساتھ ہے نہ كہ فلكى حساب سے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ .


ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ ( 15 / 67 - 68 )



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 121.45