موضوعاتی فہرست
موزوں اورجرابوں پر مسح
مریض کے لیے موزوں پر مسح کی مدت
آپ پر لازم ہے کہ موزوں پر مسح کی مقررہ مدت کی پابندی کریں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے تو پھر موزے پر مسح کرنا جائز نہیں رہتا، بلکہ انہیں اتار کر نئے وضو کے ساتھ پہننا ہو گا۔ البتہ مدت ختم ہونے سے پہلے اگر آپ وضو کی حالت میں ہیں تو اس وضو کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں یہاں تک کہ آپ کا وضو ٹوٹ جائے۔ رہی بات پاؤں دھونے میں مشقت کی تو آپ اس پر قابو پا سکتے ہیں، مثلاً کرسی پر بیٹھ کر پاؤں دھو لیں یا جھکے بغیر ان پر پانی ڈال لیں۔محفوظ کریںکیا موزوں پر مسح کرنے کے لیے نیت شرط ہے؟
جرابوں پر مسح کرنے کے لیے انہیں پہنتے ہوئے مسح کرنے کی نیت سے پہننا ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر کسی نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنیں تو وہ مقیم ہونے کی صورت میں ایک دن اور رات، جبکہ مسافر ہونے کی صورت میں تین دن اور رات تک مسح کر سکتا ہے۔محفوظ کریںاگر كوئى مسح كر كے موزے اتار دے تو كيا وضوء ٹوٹ جائيگا ؟
محفوظ کریںموزوں پر مسح كرنے كى شروط
محفوظ کریںكيا موزوں پر مسح كرنا افضل ہے يا كہ پاؤں دھونے ؟
محفوظ کریںجرابوں پر مسح كرنے كے ليے ضرورى ہے كہ جرابيں طہارت كاملہ كے بعد پہنى گئى ہوں
محفوظ کریںجرابوں پر مسح كرنے كى مدت ختم ہونے كے بعد وضوء نہيں ٹوٹتا
محفوظ کریںكيا جرابيں اتارنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟
محفوظ کریںكيا گرميوں ميں موزوں پر مسح كرنا صحيح ہے ؟
محفوظ کریںكيا دوران وضوء پاؤں دھونا فرض ہيں يا كہ مسح كرنا ؟
محفوظ کریں