

|
|
الحمد للہ :
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى سے اس سوال كے متعلق دريافت كيا گيا تو انہوں نے اس كے جواب ميں فرمايا:
الحمد للہ رب العالمين، سب تعريفات اس رب كے ليے ہيں جو سب جہانوں كا پالنے والا ہے:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس بارہ ميں كوئى صحيح حديث وارد نہيں،اور نہ ہى ان كے صحابہ كرام سے ثابت ہے، اور نہ ہى مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے اسے مستحب قرار ديا ہے، نہ تو آئمہ اربعہ نے اور نہ ہى كسى دوسرے نے، اور اسى طرح بااعتماد اور معتبر كتابوں كے مؤلفين نے بھى اس بارہ ميں كچھ روايت نہيں كيا، نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اور نہ ہى صحابہ كرام اور تابعين عظام سے، اس بارہ ميں نہ تو صحيح روايت ہے اور نہ ہى ضعيف، اور نہ تو كتب صحيح ميں اور نہ ہى كتب سنن ميں اور نہ ہى مسانيد ميں.
بلكہ افضل اور بہتر ادوار اور قرون اولى ميں تو ان احاديث ميں سے كچھ بھى معروف نہيں تھا، ليكن بعض متاخرين اور بعد ميں آنے والوں نے اس كے متعلق كچھا احاديث روايت كى ہيں مثلا يہ روايت بيان كى جاتى ہے كہ:
جس نے يوم عاشوراء ميں سرمہ لگايا اسے اس سال آنكھ درد نہيں ہو گى، اور جس نے يوم عاشوراء كو غسل كيا وہ اس برس بيمار نہيں ہو گا.
اور اس طرح كى كئى ايك روايات بيان كى جاتى ہيں، اور يوم عاشوراء ميں نماز ادا كرنے كى فضيلت ميں بھى روايات بيان كرتے ہيں، اور يہ بھى روايات كيا ہے كہ: آدم عليہ السلام كى توبہ يوم عاشوراء ميں ہوئى، اور نوح عليہ السلام كى كشتى جودى پہاڑ پر يوم عاشوراء ميں ہى ركى، اور يوسف عليہ السلام يعقوب عليہ اسلام كے پاس اسى دن واپس كيے گئے، اور ابراہيم عليہ السلام نے آگ سے نجات بھى اسى دن پائى، اور اسماعيل ذبيح عليہ السلام كے فديہ ميں اسى دن مينڈھا ذبح كيا گيا، وغيرہ .
اور ايك موضوع حديث جو كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے ذمہ جھوٹ ہے ميں بيان كيا گيا ہے كہ:
" جس نے يوم عاشوراء ميں اپنے گھر والوں كو وسعت كسائش دى اللہ تعالى سارا سال اسے آسانى اور كسائش دے گا"
( پھر اس كے بعد شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے عراق كى سرزمين كوفہ ميں پائے جانے والے ان دونوں گمراہ فرقوں كو بيان كيا ہے جو يوم عاشوراء كو اپنى بدعات كے ليے يوم جشن كے طور پر مناتے تھے )
رافضى گروہ ( شيعہ ) جو اہل بيت سے محبت اور انس ظاہر كرتے ہيں حالانكہ وہ باطنى طور پر يا تو ملاحدہ اور زنادقہ ہيں، يا پھر جاہل اور خواہشات كے پيروكار ہيں.
اور دوسرا گروہ نواصب كا ہے، جو فتنہ اور فساد كے وقت قتل و غارت ہونے كى بنا پر على رضى اللہ تعالى عنہ اور ان كے ساتھيوں سے بغض كا اظہار كرتے ہيں، حالانكہ مسلم شريف ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے حديث ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ( قبيلہ ) ثقيف ميں ايك كذاب اور اور ايك خونريزى كرنے والا ہو گا"
لہذا مختار بن ابو عبيد الثقفى كذاب تھا، اور وہ اہل بيت سے دوستى اور محبت كا اظہار كرتا اور ان كى مدد كرنے كا دعويدار تھا، اور عراق كے امير عبيد اللہ بن زياد كو قتل كيا جس نے وہ پارٹى تيار كى جس نے حسين بن على رضى اللہ تعالى عنہما كو قتل كيا اور پھر اس نے كذب كا اظہار كرديا اور نبوت كا دعوى كرتے ہوئے كہا كہ اس پر جبريل عليہ السلام نازل ہوتے ہے، حتى كہ وہ ابن عباس اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم كو كہنے لگے: انہوں نے ان ميں سے ايك كو كہا: مختار بن ابو عبيد كا خيال ہے كہ اس پر وحى نازل ہوتى ہے، تو انہوں نے كہا وہ سچ كہتا ہے:
اللہ تعالى كا فرمان ہے:
{كيا ميں تمہيں اس كى خبر نہ دوں جس پر شيطان نازل ہوتے ہيں تا كہ وہ اپنے دوستوں كو يہ وحى كريں كہ وہ تم سے لڑيں}.
اور رہا خونريزى كرنے والا تو وہ حجاج بن يوسف الثقفى تھا، اور يہ شخص على رضى اللہ تعالى عنہ اور ان كے ساتھيوں سے منحرف تھا، لہذا يہ نواصب ميں سے ہے، اور پہلا روافض ( شيعہ ) ميں سے تھا، اور يہ رافضى سب سے بڑا جھوٹ پرداز اور بہتان باز، اور دين ميں الحاد كرنے والا تھا، كيونكہ اس نے نبوت كا دعوى كيا.
اور كوفہ ميں ان دونوں گروہوں كے مابين لڑائى اور فتنہ وقتال تھا، لہذا جب يوم عاشوراء ميں حسين بن على رضى اللہ تعالى عنہما شہيد ہوئے اور انہيں باغى اور ظالم گروہ نے قتل كيا، اور اللہ تعالى نے حسين رضى اللہ تعالى كو خلعت شہادت سے نوازا اسى طرح اہل بيت ميں سے دوسروں كو بھى شہادت سے سرفراز كيا، ان ميں سے حمزہ اور جعفر رضى اللہ تعالى عنہما كو شہادت كى عزت دى، اور حسين رضى اللہ تعالى كے والد على رضى اللہ تعالى كو بھى شہادت جيسى عزت سے نوازا، اور اس كے علاوہ دوسروں كو بھى.
اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ شہادت ان اشياء ميں سے تھى جن كے ساتھ اللہ تعالى نے ان كے مقام و مرتبہ كو اور بلند كرديا اور ان كے درجات ميں اضافہ كيا كيونكہ وہ اور ان كے بھائى حسن رضى اللہ تعالى عنہ جنتى نوجوانوں كے سردار ہيں، اور پھر بلند و بالا مقام و مرتبہ بغير كسى ابتلاء اور آزمائش كے حاصل نہيں ہوتا، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا بھى فرمان ہے:
جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا گيا كہ: سب سے زيادہ كن لوگوں كى آزمائش ہوتى ہے؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" انبياء كى اور پھر صالحين كى پھر سب سے زيادہ بہتر اور اچھے شخص كى اور پھر اس سے كم كى، آدمى كى آزمائش اس كے دين كے مطابق ہوتى ہے، لہذا اگر وہ اپنے دين ميں پختہ اور سخت ہو اس كى آزمائش اور تكليف ميں اضافہ ہوجاتا ہے، اور اگر اس كے دين ميں كمى اور ہلكا پن ہو تو آزمائش بھى كم ہو جاتى ہے، اور ايك مومن شخص پر آزمائش رہتى ہے حتى كہ وہ زمين پر چلتا ہے تو اس كا كوئى گناہ باقى نہيں رہتا" اسے ترمذى وغيرہ نے روايت كيا ہے.
لہذا حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما كو اللہ تعالى كى جانب سے جو كچھ مرتبہ اور منزلت اور درجہ حاصل تھا وہ مل گيا، اور ان دونوں كے ليے وہ آزمائش اور تكليف نہيں آئى جو ان كے سلف اور پہلے لوگوں پر آئى تھى، اس ليے كہ حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما تو اسلام كى عزت ميں پيدا ہوئے، اور عزت اكرام ميں پرورش پائى، اور سب مسلمان ان كىعزت و تكريم كرتے تھے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات ہوئى تو وہ ابھى سن تميز كو بھى نہيں پہنچے تھے، تو اللہ تعالى كى ان پر يہ نعمت تھى كہ انہيں آزمائش ميں ڈالا جو انہيں ان كے خاندان والوں كے ساتھ ملائے، جيسا كہ ان سے بہتر اور اچھے اور نيك بھى آزمائش ميں پڑے، اس ليے كہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ ان دونوں سے بہتر اور افضل تھے، اور انہيں شہادت كى موت آئى اور قتل كرديا گيا.
اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت ايسى تھى جس كى بنا پر فتنوں نے سر ابھار ليا اور لوگوں كے مابين فتنے پھوٹ پڑے، جس طرح كہ عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كا قتل فتنوں كو لانے والے اسباب ميں سے سب سے بڑا سبب تھا، جس نے لوگوں كے مابين فتنے پھيلا ديے، اور اس كى بنا پر ہى امت مسلمہ جدا جدا ہو گئى اور اس ميں قيامت تك تفرقہ پڑ گيا، اسى ليے حديث ميں آيا ہے كہ:
" تين اشياء سے جو كوئى بھى نجات پا گيا وہ كامياب ہوا اورنجات پا گيا، ميرى موت، اور خليفہ كو صبركى حالت ميں قتل كرنا، اور دجال"
( پھر شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے حسن رضى اللہ تعالى عنہ كے عدل وانصاف اور ان كى سيرت كا كچھ حصہ ذكر كيا ہے حتى كہ وہ كہتے ہيں:
پھر وہ فوت ہو گئے اور اللہ تعالى كى عزت و تكريم اور اس كى رضامندى كى طرف چلے گئے، اور ان گروہوں نے جنہوں نے حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو خطوط لكھے اور ان سے مدد و تعاون كا وعدہ كيا كہ اگر وہ معاملے كو لے كر اٹھ كھڑے ہوں تو وہ سب ان كے ساتھ ہيں، حالانكہ وہ لوگ اس كے اہل نہيں تھے، بلكہ جب حسين رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے چچازاد كو ان كى طرف روانہ كيا تو انہوں نے اس كے ساتھ وعدہ خلافى كى اور معاہدہ كو توڑ ديا اور ان كے خلاف ہو گئے جنہوں نے ان سے مدد كا وعدہ كيا تھا اور كہا تھا كہ ہم آپ كے ساتھ مل كر لڑيں گے، اور اہل رائے اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے محبت كرنے والوں نے مثلا ابن عباس اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما وغيرہ نے انہيں يہ مشورہ ديا كہ وہ ان كے پاس نہ جائيں ليكن انہوں نے ان كا مشورہ قبول نہ كيا، ان كے خيال ميں وہاں جانے ميں كوئى مصلحت نہيں تھى، اور اس كے نتائج بھى بہتر اور اچھے نہيں، اور واقعتا معاملہ بھى ايسا ہى ہوا جيسا انہوں نے كہا تھا، اور يہ اللہ تعالى كى جانب سے مقدر كردہ تھا، لہذا جب حسين رضى اللہ تعالى عنہ نكلے اور انہوں نے ديكھا كہ معاملات تو بدل چكے ہيں، تو انہوں نے ان سے مطالبہ كيا كہ مجھے واپس جانے دو يا پھر كسى سرحد پر جا كر لڑنے دو، يا اپنے چچا زاد يزيد كے پاس ہى جانے دو تو انہوں نے ان سب باتوں سے انكار كرديا اور ان كى بات تسليم نہ كى حتى كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو قيدى بنا ليا اور ان سے لڑائى اور جنگ كرنے لگے تو حسين رضى اللہ تعالى عنہ نے بھى ان سے لڑائى كى تو انہوں نے حسين رضى اللہ تعالى عنہ اور ان كے ساتھ كچھ لوگوں كو بھى قتل كرديا يہ ايك مظلوم كى شہادت تھى جس كے ساتھ اللہ تعالى نے انہيں عزت و شرف سے نوازا اور انہيں ان كے طيب اور طاہر اہل بيت كے ساتھ ملا ديا، اور جنہوں نے ان پر ظلم اور زيادتى كى اللہ تعالى نے اس شہادت كے ساتھ انہيں ذليل و رسوا كرديا، اور اس نے لوگوں كے مابين شر اختيار كر ليا، لہذا ايك گروہ ظالم اور جاہل بن گيا، يا تو يہ گروہ ملحد اور منافق ہے يا گمراہ اور راستے سے بھٹك چكا ہے، اور ان سے اور اہل بيت سے اپنى محبت تو ظاہر كرتا ہے اور يوم عاشوراء ميں ماتم اور نوحہ كرتا اور غم ميں مبتلا ہوتا ہے، اور اس دن جاہليت كے كام اور شعار ظاہر كرتے ہوئے منہ اور جسم كو پيٹتا اور كپڑے پھاڑتا اور دور جاہليت كى تعزيت كرتے ہوئے تعزيہ نكالتا ہے، جس كے بارہ ميں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مصيبت - اگر نئى ہو تو - ميں حكم ديا ہے كہ صبر و تحمل اور برداشت سے كام ليا جائے اور انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھا جائے اور اجروثواب كى نيت كى جائے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا ارشاد ہے:
{اور صبر كرنے والوں كو خوشخبرى دے ديں، جب انہيں كوئى مصيبت اور تكليف پہنچتى ہے تو وہ كہتے ہيں بلا شبہ ہم اللہ تعالى كے ليے ہيں اور اسى كى طرف پلٹنے والے ہيں، يہى ہيں جن پر اللہ تعالى كى نوازشيں اور رحمتيں ہيں، اور يہى ہدايت يافتہ ہيں}
اور صحيح ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جو كوئى رخسار پيٹے اور كپڑے پھاڑے، اور جاہليت كى پكار لگائے وہ ہم ميں سے نہيں "
اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ميں مصيبت ميں نوحہ كرنے والى، اور بال منڈانے والى اور كپڑے پھاڑنے والى سے برى ہوں"
اور فرمايا:
" اگر نوحہ كرنے والى موت سے قبل توبہ نہيں كرتى تو روز قيامت وہ اٹھے گى اور اس پر گندھك كى قميص اور خارش كى درع ہو گى"
اور مسند ميں فاطمہ بنت حسين رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ اپنے والد حسين رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس شخص كو بھى كوئى مصيبت اور تكليف پہنچتى ہے تو وہ اپنى مصيبت كو ياد كرتا ہے اگرچہ اسے زيادہ دير بھى ہو چكى ہو تو وہ اس پر انا للہ وانا اليہ راجعون كہے تو اللہ تعالى اس كے بدلے ميں اسے اس دن جس ميں اسے مصيبت پہنچى تھى جتنا ہى اجروثواب دے گا"
اور يہ اللہ تعالى كى جانب سے مومنوں كى عزت و تكريم ہے، بلا شبہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ وغيرہ كى مصيبت اتنى مدت بعد بھى جب ياد كى جائے تو مومن شخص كو چاہيے كہ وہ اس ميں انا للہ وانا اليہ راجعون كہے، جيسا كہ اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديا ہے، تا كہ اسے بھى مصيبت زدہ جتنا ہى اجروثواب حاصل ہو سكے جس دن اسے مصيبت پہنچى تھى، اور جب اللہ تعالى نے مصيبت آتے ہى اور اس كے قريبى وقت ميں صبر و تحمل كا حكم ديا ہے تو پھر جب مصيبت كو ايك لمبى مدت گزر چكى ہو تو كيسے ہوگا.
گمراہ اور غلط راستے پر چلنے والوں كے ليے شيطان نے جو كچھ مزين كيا اس ميں يوم عاشورا كا ماتم اور نوحہ و آہ و بكا اور مرثيے اور غم وحزن كے اشعار پڑھنا بھى شامل ہے، كہ اسے ماتم كا دن بنايا جائے، اور اس دن وہ جھوٹى اور من گھڑت روايتيں بيان كرتے ہيں، اور سچائى تو يہ ہے كہ اس ميں غم اور پريشانى كى تجديد اور تعصب اور دشمنى اور مخالفت پيدا كرنے اور لڑائى اور اہل اسلام كے مابين فتنہ پيدا كرنے كے علاوہ كچھ نہيں، اور اس كے ساتھ پہلے سابقين الاولين پر سب وشتم، اور كذب بيانى ميں كثرت، اور دنيا ميں فتنہ وفساد تك پہنچنے كا وسيلہ ہے، اسلام ميں پائے جانے والے فرقے اور گروہوں ميں اس گمراہ اور حق سے پھسلے ہوئے فرقہ كے علاوہ كوئى فرقہ زيادہ جھوٹا اور فتنہ وفساد پيدا كرنے والا اور كفار كے ساتھ دوستى اور مسلمانوں كے خلاف كفار كا تعاون و مدد كرنے والا كوئى اور فرقہ نہيں، يہ اسلام سے نكلے ہوئے خارجيوں سے بھى زيادہ شرير ہيں، انہيں كے بارہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اہل اسلام ( مسلمانوں ) كو فتنہ ميں ڈالتے اور بت پرستوں كو چھوڑتے ہيں انہيں كچھ نہيں كہتے"
اور يہى ہيں جو اہل بيت اور مسلمانوں كے خلاف يہوديوں اور عيسائيوں اور مشركوں كى مدد و تعاون كرتے ہيں، بالكل اسى طرح جس طرح انہوں نے تركيوں اور تتاريوں ميں سے مشرك لوگوں كى بغداد وغيرہ ميں جو كچھ انہوں نے خانوادہ نبوت اور عباس كى اولاد اہل بيت اور ان كے علاوہ دوسرے مومن اور مسلمانوں كے ساتھ كيا اور انہيں قتل كيا ان كا خون بہايا اور ان كے گھروں كو منہدم كيااس ميں مدد و تعاون فراہم كيا، ايك عقلمند اور مسلمانوں كوجو كچھ ضرر و نقصان اس فرقہ اور گروہ نے ديا ہے اسے ايك عقلمند اور فصيح الكلام شخص شمار بھى نہيں كرسكتا.
اور اس فرقے اور گروہ كے مقابلے ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو يا تو ناصبى جو حسين رضى اللہ تعالى عنہ اور اہل بيت پر تعصب ركھتے ہيں، يا پھر جاہل ہيں جو فساد اور غلط كام كے مقابلے ميں غلط اور فساد سے كام ليتے ہيں اور جھوٹ كا مقابلہ جھوٹ اور شر و برائى كا مقابلہ شر اور برائى اور بدت كے مقابلے ميں بدعات كرتے ہيں، لہذا انہوں نے فرحت و سرور اور خوشى كى علامات ميں كچھ ايسے آثار اور احاديث وضع كرليں جن ميں يوم عاشوراء كو يہ اعمال كرنا كا بيان ہے، مثلا:
سرمہ اور خضاب لگانا، اور اہل و عيال پر فراخدلى سے زيادہ خرچ كرنا، اور عام طور پر عادت سے ہٹ كر مختلف قسم كے كھانے پكانا، وغيرہ دوسرے اعمال جو مختلف تہواروں اور موسموں ميں كيے جاتے ہيں، لہذا ان لوگوں نے يوم عاشورا كو دوسرے تہواروں جيسا ايك تہوار بنا ليا ہے اس ميں خوشى اورسرور مناتے ہيں، اور دوسرے گروہ ( شيعہ ) اس دن ميں ماتم كرتے اور مرثيے پڑھتے ہيں اور غمزدہ پريشانى كا اظہار كرتے ہيں، اور يہ دونوں گروہ اور فرقے غلط ہيں اور سنت سے باہر ہيں، اگرچہ يہ لوگ ( رافضى اور شيعہ ) مقصد كے اعتبار سے برے اور بہت زيادہ جاہل، اور ظاہرا ظالم ہيں، ليكن اللہ عزوجل نے عدل وانصاف اوراحسان كا حكم ديا ہے.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" تم ميں سے جو بھى ميرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زيادہ اختلاف ديكھے گا، لہذ تم ميرى اور ميرے بعد خلفاء راشدين كى سنت كو لازم پكڑنا، اس پر عمل كرو اور اسے مضبوطى سے تھامے ركھو، اور نئے نئے كام سے بچو كيونكہ ہر بدعت گمراہى و ضلالت ہے"
نہ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اور نہ ہى ان كے خلفاء راشدين نے يوم عاشوراء ميں يہ كام مسنون كيے، نہ تو غم و پريشانى اور نہ ہى خوشى و فرحت كى علامات كا اظہار، ليكن يہ ہے كہ:
" جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مدينہ تشريف لائے تو مدينہ كے يہوديوں كو ديكھا كہ وہ يوم عاشوراء كا روزہ ركھتے ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ كيا ہے؟
تو وہ كہنے لگے: يہ وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالى نے موسى عليہ السلام كو غرق ہونے سے نجات دى تھى لہذا ہم اس دن كا روزہ ركھتے ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم سے زيادہ موسى عليہ السلام كے حقدار ہيں، لہذا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خود بھى روزہ ركھا اور اس دن كا روزہ ركھنے كا حكم بھى ديا"
اور دور جاہليت ميں قريش بھى اس دن كى تعظيم كرتے تھے، اور جس دن كا روزہ ركھنے كا حكم ديا وہ ايك دن تھا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم مدينہ ميں ربيع الاول كے مہينہ ميں تشريف لائے اور اگلے سال يوم عاشورا كا روزہ ركھا اور اس كا روزہ ركھنے كا حكم بھى ديا، پھر اسى برس رمضان المبارك كے روزے فرض كر ديے گئے تو عاشوراء كا روزہ منسوخ ہو گيا.
علماء كرام كا اس ميں تنازع ہے كہ: كيا اس دن كا روزہ واجب تھا؟ يا مستحب؟
اس ميں دو مشہور قول ہيں، ان ميں صحيح يہى ہے كہ يہ روزہ واجب تھا، پھر بعد ميں اسے استحباب ميں بدل ديا گيا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عام لوگوں كو اس كا روزہ ركھنے كا حكم نہيں ديا بلكہ آپ فرمايا كرتے تھے:
" يہ يوم عاشوراء ہے، ميں روزہ سے ہوں لہذا جو كوئى روزہ ركھنا چاہے روزہ ركھے"
اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ بھى فرمايا:
" يوم عاشوراء كا روزہ ايك سال كے گناہوں كا كفارہ ہے، اور يوم عرفہ كا روزہ دو برس كے گناہوں كا كفارہ ہے"
اور جب نبى كريم صلى اللہ وسلم كى زندگى كے آخرى ايام تھے اور جب انہيں يہ علم ہوا كہ يہودى اس دن كو تہوار اور عيد كے طور پر مناتے ہيں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اگر ميں آئندہ برس زندہ رہا تو ميں نو محرم كا روزہ ركھوں گا"
تا كہ يہوديوں كى مخالفت كرسكيں، اور اس دن كو ان كے تہوار منانے ميں ان كى مشابہت نہ ہو سكے، اور صحابہ كرام اور علماء صرف يوم عاشوراء كا روزہ ركھنا مكروہ سمجھتے تھے، جيسا كہ كوفيوں كے ايك گروہ سے نقل كيا جاتا ہے، اور كچھ علماء اس كا روزہ مستحب قرار ديتے ہيں، ليكن صحيح يہى ہے كہ: جو شخص يوم عاشوراء كا روزہ ركھے اسے اس كے ساتھ نو محرم كا بھى روزہ ركھنا چاہيے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا آخرى امر ہے اس كى دليل يہ ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اگر ميں آئندہ برس زندہ رہا تو ميں دس كے ساتھ نو كا بھى روزہ ركھوں گا"
جيسا كہ حديث كے بعض طرق ميں اسى تفسير كے ساتھ آيا ہے، لہذا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو يہى مسنون كيا ہے، ليكن اس كے علاوہ باقى سب امور: مثلا عادت سے ہٹ كر كوئى كھانا تيار كرنا، چاہے وہ دانے ہوں يا كوئى اور چيز، يا پھر نيا لباس زيب تن كرنا، اور اہل وعيال پر خرچہ ميں وسعت اور زيادہ كرنا، يا اس دن پورے سال كا راشن خريدنا، يا كوئى مخصوص عبادت كرنا، مثلا اس كى مخصوص نماز، يا قربانى ذبح كرنا، يا قربانى كا گوشت اس مقصد سے ركھـ لينا كہ اس گوشت كے ساتھ دانے پكائے جائيں، يا سرمہ اور خضاب وغيرہ لگانا، يا غسل كرنا يا مصافح كرنا، يا ايك دوسرے كى زيارت كرنا، يا مسجدوں اور مشاہد كى زيارت كرنا، اس كے علاوہ دوسرے امور، يہ سب كچھ بدعات اور منكرات ميں شامل ہوتے ہيں، جن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثبوت نہيں ملتا اور نہ ہى ان كے خلفاء الراشدين سے مسنون ہے، اور نہ ہى مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے اسے مستحب قرار ديا ہے، نہ تو امام مالك رحمہ اللہ اور نہ ہى امام ثورى اور امام ليث بن سعد اور نہ ہى امام ابو حنيفہ رحمہم اللہ نے، اورنہ امام اوزاعى اور امام شافعى اور نہ ہى امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہويہ رحمہم اللہ نے، اور نہ ہى ان جيسے دوسرے مسلمان آئمہ كرام مسلمان علماء نے..
اور دين اسلام تو صرف دو اصلوں پر قائم ہے يعنى وہ صرف يہ ہے كہ ہم اللہ تعالى كے علاوہ كسى اور كى عبادت نہ كريں، اور اس كى عبادت بھى اس طرح كريں جو ثابت اور مشروع ہے، ہم اس كى عبادت بدعات و خرافات كے ساتھ نہيں كرينگے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{جو كوئى بھى اللہ تعالى كى ملاقات كى اميد ركھتا ہے اسے چاہيے كہ وہ اعمال صالحہ كرے اور اپنے رب كى عبادت ميں كسى دوسرے كو شريك نہ كرے}
لہذا عمل صالح وہ ہے جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كو پسند اور محبوب ہو، وہى عمل مشروع اور مسنون ہے، اسى ليے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ اپنى دعا ميں يہ كہا كرتے تھے:
اے اللہ ميرے سارے عمل صالح بنا اور اسے اپنے ليے خالص بنا دے، اور اس ميں كسى دوسرے كو كچھ بھى نہ ركھ.
انتہى. شيخ الاسلام كى كلام كا اختصار ہے. )
ديكھيں: فتاوى الكبرى ( 5 )
اللہ تعالى ہى سيدھے راستے كى راہنمائى كرنے والا ہے.
واللہ اعلم .
الحمد للہ :
اگرہمیں یہ نہ پتہ چلےکہ ذوالحجہ تام ( یعنی۔30۔دن ) کاتھایاکہ ناقص ( یعنی ۔29۔دن) کاتھااورنہ ہی ہمیں اس کےمتعلق کوئی بتائےکہ محرم کب شروع ہواتواصل کےمطابق چلیں گےیعنی مہینےکوتیس یوم کامکمل کرینگے۔ ذوالحجہ کےتیس یوم کا اعتبار کیاجائےگااوراسی بناپرہم عاشوراءکوشمارکرینگے ۔
اوراگرمسلمان یہ احتیاط چاہتا ہےکہ عاشوراءکا روزہ قطعی طورپرصحیح ہوتووہ دودن کا مسلسل روزہ رکھے ۔اسےچاہئےکہ وہ شمارکرے کہ ، اگرذوالحجہ انتیس یوم کاہو توعاشوراءکب ہوگااوراگرذوالحجہ تیس کاہوتو پھرعاشوراء کب ہوگاتوان دونوں دنوں میں وہ روزے رکھ لےتواس طرح وہ عاشوراءکویقینی اورقطعی طور پر پالےگا ۔
تواس حالت میں یاتواس نےنواوردس محرم کاروزہ رکھایاپھردس اورگیارہ کاتودونوں ہی ٹھیک ہیں اوراگروہ نومحرم کاروزہ رکھنےمیں بھی احتیاط چاہتاہے توہم اسےیہ کہیں گےکہ دودن وہ جن کاذکراوپرکیاگیاہےاورایک دن اس سے پہلےروزہ رکھ لےاس طرح اس نےنو، دس اورگیارہ محرم کاروزہ یاپھرآٹھ ، نواوردس کاروزہ رکھا ۔ان دونوں حالتوں میں تاکیدی طورپرنواوردس محرم کاروزہ رکھاجائےگا ۔
اوراگرکوئي یہ کہےکہ میں اپنےخاص مسائل ، کام کاج اورذاتی ( مصروفیات ) کی بناپرصرف ایک روزہ ہی رکھ سکتاہوں ،توکونسادن افضل جس میں روزہ رکھوں توہم اسے یہ کہیں گے :
ذوالحجہ کوتیس یوم مکمل کریں پھراس کےبعددس دن شمارکرکےروزہ رکھ لو۔
یہ مضمون میں نےاپنےشیخ اوراستادعلامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ تعالی سےجب اس کےمتعلق پوچھاگیاتوسنا ۔
اوراگرکسی ثقہ مسلمان کی طرف سےہمیں محرم کاچانددیکھ کرتعیین کرنےکی خبرملےتوہم اس پرعمل کریں گےاورمحرم میں روزہ رکھناعمومی طورپرسنت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
( رمضان کےبعدسب سےافضل روزے اللہ تعالی کےمہینہ محرم کےروزے ہیں )
صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(1163)
واللہ اعلم .
الحمد للہ :
آپ كے ليے لباس وغيرہ كے ساتھ يوم عاشوراء ميں بناؤ سنگھار كرنا جائز نہيں، كيونكہ ہو سكتا ہے اس سے جاہل خود غرض قسم كے لوگ يہ سمجھيں كہ اہل سنت حسين بن على رضى اللہ تعالى عنہما كى شھادت پر خوش ہوتے ہيں، حالانكہ حاشا وكلا اہل سنت اس پر راضى اور خوشى محسوس نہيں كرتے.
اور رہا مسئلہ ان كے ساتھ معاملات كرنے ميں ان كى غيبت اور ان كے ليے بددعا كرنا اور اس كے علاوہ دوسرے ايسے كام جو بغض پر دلالت كريں، يہ بھى صحيح اور اس لائق نہيں، ليكن ہم پر واجب اور ضرورى يہ ہے كہ ہم انہيں دعوت دين اور ان پر اثر انداز ہونے اور ان كى اصلاح كى كوشش كريں، اگر انسان كے پاس ايسا كرنے كى استطاعت نہ ہو تو وہ ان سے اعراض كرلے اور انہيں چھوڑ دے، اور صاحب استطاعت كو ايسا كرنے كا موقع دے، اور ايسے معاملات اور كام نہ كرے جو دعوت و تبليغ كے راستے ميں روڑے اٹكائيں.
الشيخ سعد الحميد
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سبب سے شيطان لوگوں ميں دو بدعات پيدا كر رہا ہے: غم و پريشانى اور يوم عاشوراء ميں ماتم اور نوحہ كى بدت، پيٹنا، آہ وبكا كرنا، اور مرثيہ گوئى كرنا، اور رونا وغيرہ، اور فرحت و خوشى كى بدعت:
لہذا ان لوگوں نے غم كى بدعت ايجاد كرلى اور دوسروں نے خوشى و سرور كى بدعت، لہذا يہ لوگ يوم عاشورا ميں سرمہ لگانا، غسل كرنا، اور اہل وعيال پر زيادہ خرچ كرنا اور عادت سے ہٹ كر كھانے پكانے وغيرہ كو مستحب قرار ديتے ہيں،
اور پھر ہر بدعت گمراہى و ضلالت ہے، مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے بھى نہ تو آئمہ اربعہ نے اور نہ ہى كسى دوسرے نے نہ تو يہ مستحب قرار ديا ہے نہ ہى وہ.... ) اھـ ديكھيں: منھاج السنۃ ( 4 / 554 - 556 ) اختصار كے ساتھ پيش كيا گيا ہے.
واللہ اعلم .
الحمدللہ
محرم کا مہینہ قمری مہینوں میں پہلا اورحرمت والے مہینوں میں سے ایک حرمت والا مہینہ ہے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ یقینا اللہ تعالی کے ہاں کتاب اللہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا فرمایا ہے ، ان میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو } التوبۃ ( 36 ) ۔
امام بخاری اورامام مسلم نے ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( آسمان وزمین کے پیدا ہونے سے ہی زمانہ اپنی حالت وہیئت پر گھوم رہا ہے سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، تین تو مسلسل ہیں ذولقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورمضرکا رجب جوجمادی الثانی اورشعبان کے مابین ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3167 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1679 ) ۔
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے یہ بھی ثابت ہے کہ رمضان المبارک کے بعد محرم کےمہینہ میں روزے افضل ہیں ۔
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے محرم کے مہینہ کے رروزے ہیں ، اورفرضی نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1163 ) ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( اللہ تعالی کا مہینہ ) مہینہ کی اضافت اللہ تعالی کی طرف تعظیما ہے ، ملا علی قاری کہتے ہيں : اس سے پورا محرم کا مہینہ مراد ہے ۔
لیکن احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے روزے نہيں رکھے ، لھذا اس حدیث کو محرم کے مہنیہ میں زیادہ روزے رکھنے کی ترغیب پر محمول کیا جائے گا نہ کہ پورے مہینہ کے روزے رکھنے پر ۔
واللہ اعلم .
الحمدللہ
شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔
ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔
یہی سوال لجنۃ الدائمۃ سے کیاگيا تواس کا جواب تھا :
یوم عاشوراء کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے ، لیکن افضل اوربہتر یہ ہے کہ اس سے دن قبل یا بعد میں بھی روزہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ سنت طریقہ ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1134 ) ۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ : دس کے ساتھ نومحرم کا بھی ۔
اللہ تعالی کی توفیق بخشنے والا ہے ۔
دیکھیں : اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ الافتاء ( 11 / 401 ) ۔
واللہ اعلم .
الحمدللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہيں کہ : جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ خود بھی رکھا اوردوسروں کو بھی اس کا حکم دیا تو صحابہ کرام انہیں کہنے لگے یھودی اورعیسائي تو اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ۔
تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : آئندہ برس ہم ان شاء اللہ نو محرم کا روزہ رکھیں گے ، ابن عباس رضي اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آئندہ برس آنے سے قبل ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگۓ ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1916 ) ۔
امام شافعی اور ان کے اصحاب ، امام احمد ،امام اسحاق ، اوردوسروں کا کہنا ہے کہ :
نومحرم اوریوم عاشوراء یعنی دس محرم دونوں کا روزہ رکھنا مستحب ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اورنو محرم کا روزہ رکھنے کی نیت کی ۔
تواس بنا پر یوم عاشوراء کے مراتب اوردرجات ہیں ، کم ازکم درجہ یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے ، اوراس سے اوپروالا درجہ یہ ہے کہ دس کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھا جائے ، محرم میں جتنے بھی زیادہ روزے رکھے جائيں گے وہ افضل اوربہترہیں ۔
اگر آپ یہ کہیں کہ دس محرم کے ساتھ نومحرم کاروزہ رکھنے میں حکمت کیا ہے ؟
تواس کا جواب یہ ہے :
امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
ہمارے اصحاب اوردوسرے علماء کرام نے نومحرم کے روزے کی حکمت میں کئي ایک وجوھات بیان کی ہیں :
پہلی :
اس سے یھود ونصاری کی مخالفت مقصود ہے ، کہ وہ صرف دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے یہی مروی ہے ۔
دوسری :
اس کا مقصد ہے کہ یوم عاشوراء کے ساتھ اور روزہ بھی ملایا جائے ، جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
تیسری :
دس محرم کا روزہ رکھنے میں احتیاط کہ کہیں چاند کم دنوں کا نہ ہو ،جس کی بنا پر غلطی ہوجائے اس لیے نومحرم کا روزہ رکھنا عدد میں دس محرم ہوجائے گا ۔ انتھی ۔
ان وجوھات میں سب سے قوی اورصحیح وجہ یہی ہے کہ اہل کتاب کی مخالفت مراد ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری احادیث میں اہل کتاب سے مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے مثلا یوم عاشوراء کے بارہ میں ہی فرمایا کہ :
( اگر میں آئندہ برس زندہ رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا ) دیکھیں الفتاوی الکبری ( 6 ) ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی اس حدیث پر تعلیق کرتےہوئے کہتے ہيں :
( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جونومحرم کے روزے کا ارادہ اورقصد کیا اس کے معنی میں احتمال ہے کہ صرف نو پرہی منحصر نہیں بلکہ اس کے ساتھ دس کا بھی اضافہ کیا جائے گا ، یا تو اس کی احتیاط کےلیے یا پھر یھود ونصاری کی مخالفت کی وجہ سے ، اوریہی راجح ہے جو مسلم کی بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ انتھی ۔
دیکھیں فتح الباری ( 4 / 245 ) ۔
واللہ اعلم .
الحمد للہ :
اول:
جس شخص پر رمضان المبارك كے ايك يا ايك سے زيادہ دنوں كى قضاء ہو وہ نفلى روزہ نہ ركھے، بلكہ وہ اپنى قضاء سے ابتدا كرے اور پھر نفلى روزے ركھے.
دوم:
جب وہ دس اور گيارہ محرم الحرام كا روزہ رمضان المبارك كے چھوڑے ہوئے روزوں كى قضاء كى نيت سے رزہ ركھے تو يہ جائز ہے، اور يہ اس كے ذمہ دو يوم كى قضاء ہو گى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى كچھ ہے جو اس نے نيت كى "
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميہ والافتاء ( 11 / 401 )
اور اميد ہے ركھى جاسكتى ہے كہ آپ كو اس دن كے روزے اور قضاء كا اجروثواب حاصل ہو گا.
ديكھيں: فتاوى منار الاسلام، للشيخ محمد ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 2 / 358 )
واللہ اعلم .
الحمدللہ
اللہ وحدہ لاشریک کا شکر ہے جس نے آپ کو نوافل کی ادائيگی اور اطاعت کرنے میں آسانی پیدا فرمائي اوراس کا حریص بنایا ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ ہمیں اورآپ کواس پر ثابت قدم رکھے ۔
آپ نے روزہ کی نیت کے بارہ میں سوال کیا ہے کہ آیا رات کوہی کرنی چاہیے یا دن کوبھی کی جاسکتی ہے ہم اس کے بارہ میں گزارش کریں گے کہ نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے نفلی روزے کی نیت دن کو بھی کی تھی ۔
اس لیے اگرکوئي شخص فجر کےبعد کچھ بھی نہیں کھاتا تواس کے لیے نفلی روزہ کی نیت کرنی جائز ہے جیسا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کے پاس تشریف لائے اورکہنے لگے کیا آپ کے پاس کچھ کھانے پینے کی چيز ہے ؟
توگھر والے کہنے لگے ہمارے پاس تو کچھ نہیں ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھرمیرا روزہ ہے ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1154 - 170 )
حدیث میں لفظ ( اذن ) ظرف زمان ہے جس کا معنی یہ ہے کہ میں اس وقت روزہ سے ہوں ، جواس بات کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ کی نیت دن کوبھی کی جاسکتی ہے ، لیکن فرضی روزہ کی نیت رات کوہی کرنی ہوگی کیونکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( جوبھی فجر سے قبل روزے کی نیت نہیں کرتا اس کا روزہ ہی نہیں ) سنن ابوداود ( 2454 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 726 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6535 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے اوراس حدیث میں فرضی روزہ مراد ہے ۔
لھذا اس بنا پرآپ کا روزہ صحیح ہے ، اب رہا مسئلہ یہ کہ آیا اس روزے کا پورے دن کا اجروثواب حاصل ہوگا یا کہ نیت کے وقت سے ؟
اس کے بارہ میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
اس مسئلہ میں علماء کرام کے دو قول ہیں :
اول : اسے دن کے شروع سے ہی اجروثواب حاصل ہوگا کیونکہ شرعی روزہ تودن کے شروع سے ہوتا ہے ۔
دوم : اسے نیت کے وقت سے ثواب حاصل ہوگا ۔
اگر وہ زوال کے وقت نیت کرتا ہے تو اسے نصف دن کا اجر ملے گا ، اوریہی قول صحیح ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اورہرایک شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے ) ۔
اوراس شخص نے نیت تو دن میں کی ہے لھذا اس کا اجر بھی نیت کے وقت سے حاصل ہوگا ۔
لھذا راجح قول کی بنا پر اگر روزے کا اطلاق یوم پرہوتا ہے مثلا پیر ، جمعرات ، ایام بیض یعنی تیرہ چودہ اورپندرہ تاريخ کے روزے اور ہرمہینہ کے تین روزے وغیرہ کی نیت وہ دن کے وقت کرے تواسے اس دن کا ثواب حاصل نہیں ہو گا ۔ دیکھیں شرح الممتع ( 6 / 373 ) ۔
اورجوشخص عاشوراء کے روزے کی نیت فجر کے بعد کرے تواسے وہ فضیلت حاصل نہيں ہوگي جواحادیث میں بیان کی گئي ہے کہ اس سے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ اس پریہ صادق نہیں آتا کہ اس نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا ہے بلکہ اس نے تودن کا کچھ حصہ روزہ رکھا ہے جوکہ اس کی نیت کے وقت سے شروع ہوا تھا ۔
لیکن یہ ہے کہ اسے وہ عمومی اجروثواب حاصل ہوگا جومحرم کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حاصل ہوتا ہے کیونکہ رمضان المبارک کے مہینہ کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہی ہيں جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث نمبر ( 1163 ) میں بیان کیا گيا ہے ۔
یوم عاشوراء اورایام بیض وغیرہ کے بارہ میں آپ اوراسی طرح دوسرے لوگوں کا بے علم ہونے کا سب سے بڑا سبب میلادی تاریخ کا رواج ہے ، جس کی بنا پر اس کاعلم اسی دن ہوتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ شائد اس طرح کے فضائل کا حاصل نہ ہونا آپ اوردوسروں کے لیے طریق مستقیم پر چلنے اورتاریخ ھجری پر عمل کرنے کا باعث بنے جواللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کی ہے اوراسے اپنے دین کےلیےاختیار فرمایا ہے ۔
اگرچہ وہ تاریخ ھجری کواپنے خاص اعمال اورآپس میں معاملات تک ہی محدود رکھیں تاکہ تاریخ ھجری کا احیاء ہوسکے اورشرعی مناسبات ومحافل یادہانی اوراہل کتاب کی مخالفت بھی ہوسکے کیونکہ اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ، اسی طرح ہماری اوران کی خصوصیات وشعائر میں تمیز بھی ہونی ضروری ہے اورخاص کر قمری تاریخ جوکہ پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی رائج رہی ہے ، جیسا کہ یھودی یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اوراس کا علم قمری تاریخ سے ہی علم ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کونجات دی تھی ، تواس طرح یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قمری تاریخ تھی ہی رائج تھی نہ کہ شمسی تاریخ جوآج معروف ہے ۔
دیکھیں شرح الممتع ( 6 / 471 ) ۔
ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے اجروثواب کے ضائع ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی آپ اورآپ جیسے دوسروں کو خیروبھلائی کا حریص بنا دے ، وہ اس طرح کہ اس اجر وثواب کے ضائع ہونے کی وجہ سے دل میں جو احساسات پیدا ہوں گے وہ اس میں اعمال صالحہ کرنے کی جدوجھد پیدا کریں گے جس کی بنا پر کئي قسم کی اطاعت کرنے کی وجہ سے دل پر ایک اچھا اثر ہوگا ۔
اس کا اثر بعض اوقات کسی معین اطاعت سے بھی زيادہ ہوتا ہے جسے بعض لوگ کرتے ہیں اورپھر اس میں سستی وکاہلی کا شکار ہوتے اوربعض اوقات تو وہ اس کی وجہ سے غروروفخر کرنے لگتے اوراللہ تعالی پر احسان تک جتلانے سے بھی باز نہیں آتے ۔
ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اپنے فضل وکرم سے اجروثواب عطا فرمائے اوراپنے ذکر و شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔
واللہ اعلم .